1 نومبر 2011 - 20:30

وال اسٹریٹ پر قبضہ کرو تحریک، تین دہاہیوں قبل امام خمینی کے پیرو مسلم طلبا کے ہاتھوں نام نہاد امریکی سفارتخانے پر قبضے کا تسلسل ہے؟ یہ سوال ممکن ہے کہ بہت سے لوگوں کے لئے باعث تعجب ہو، اور وہ الٹا یہ سوال کر بیٹھیں کہ ان دونوں واقعات میں آپس کیا ربط ہے؟ یا یہ کہ کہاں تہران کہاں نیویارک؟ اس حقیقت کو درک کرنے کے لئے ہمیں ماضی میں جانا ہوگا لیکن اس سے قبل رہبر انقلاب اسلامی کے آج ( بدھ 2 نومبر 2011) کے خطاب پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

ابنا: رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے تاکید کی ہے کہ ملت ایران توکل ، استقامت، اور بصیرت کی برکت سےگذشتہ بتیس برسوں سے تمام چیلنجوں کے سامنے کامیاب رہی ہے، اس نے ترقی کی ہے اور وہ مستقبل میں بھی درپیش چیلنجوں میں کامیاب و سربلند ہوگی۔حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج ہزاروں پرجوش طالبعلموں اور اسٹوڈنٹس سےخطاب میں 4 نومبرکی تاریخ کو  انقلاب اسلامی کی قابل غورعبرت ، قدرت الہی پر توکل کے معجزے اور مقصد تک پہنچنے کی راہ میں بصیرت کے ساتھ استقامت کی علامت قرار دیا۔رہبرانقلاب اسلامی نے اس خطاب میں جو چار نومبر، یوم طلباء اور عالمی سامراج کےخلاف جدوجہد کےقومی دن کی مناسبت سے انجام پائی، اس دن کو حقیقی طور پر ایام اللہ میں سے قرار دیا اور فرمایا کہ تاریخ اسلام میں اس طرح کی اہم اور درخشاں مناسبتیں، تحریک کےصحیح راستے کی شناخت اور ان تاریخی عبرتوں کے حقیقت پسندانہ تجزیہ کی بنیاد پر مستقبل کے لئےمنصوبہ بندی کے لئے موقع ہیں۔آپ نے الہی طاقت ، اور اعلی اہداف و جدوجہد کی راہ میں بصیرت کے ہمراہ استقامت کے مظہر کو تیرہ آبان کی سب سے اہم خصوصیت قرار دیا اور فرمایا کہ بظاہر یہ محال اور ناممکن واقعہ پردیس کی جلاوطنی میں امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی ثابت قدمی اور قدرت الہی پر توکل کا نتیجہ تھا۔آپ نے وال اسٹریٹ تحریک سے توجہ ہٹانے اور اسلامی جمہوریہ ایران پر دباؤ ڈالنے کو اس ڈرامہ بازی میں امریکی حکومت کے اہداف میں سے قرار دیا اور فرمایا کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے شریف ترین جہادی عناصر پر دہشت گردی کا الزام لگانا چاہتے ہیں جبکہ آج دنیا میں سب سے بڑا دہشت گرد امریکہ ہے۔رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ علاقے اور دنیا کی قوموں نے مصر، تیونس اور لیبیا کے معاملے ميں امریکہ اور مغرب کے دہرے رویے اور منافقت کو واضح طور پر دیکھ لیا اور دوسرے معاملوں میں بھی ان کا دہرا رویہ کھل کر سامنے آ جائے گا۔حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اسلامی جمہوریہ ایران کو علاقے اور دنیا میں شروع ہونے والی تحریک کا نقطۂ آغاز قرار دیا اور فرمایا کہ اسی بنا پر دشمن کی کوشش ہے کہ عوام بالخصوص نوجوانوں اور اسی طرح حکام کو ناامید کر کے ان کی آگے سمت حرکت میں رکاوٹ ڈالیں لیکن ملک کے حکام اور نوجوان اللہ پر توکل، امید اور بےپناہ طاقت کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں چار نومبر کا حوالہ دیا ۔ چار نومبر دراصل وہ دن ہے جو اسلامی انقلاب کی اساس شما ہوتا ہے۔ چارنومبر اسلامی انقلاب کی تاريخ میں عالمی استکبار سے مقابلہ کا قومی دن ہے یہ دن اسلامی انقلاب سے متعلق تین اہم مناسبتوں کےتحت ملت اسلامیہ کے درمیان ایک یادگار دن قراردیا گیا ہے ۔یہ دن اسلامی جمہوریۂ ایران کے مؤسس و رہنما حضرت امام خمینی (رح) کی ہجرت کا دن ہے ، یہ دن پہلوی جبر و استبداد کے خلاف ایرانی اسکولوں اور کالجوں کے بہت سے انقلابی بچوں کی سر فروشی اور شہادت کا دن ہے اور یہی دن تہران میں یونیورسٹیوں اور کالجوں کے انقلابی جوانوں کے ہاتھوں ،امریکہ کے سفارتی جاسوسی کے اڈے کے تسخیر کئے جانے کا دن ہے ۔ 4 نومبر سنہ 1964 ، سنہ 1978 اور سنہ 1979 کو مختلف برسوں میں ایک ہی دن رونما ہونے والے یہ تین تاریخی واقعات ، عالمی استکبار ، شہنشاہی استبداد اور بین الاقوامی سامراجیت کے تابوت میں ٹھوکی جانے والی انقلابی کیل کی حیثیت رکھتے ہیں اور ایران کے انقلاب آفریں مسلمان اور فرض شناس قوم ان تاریخوں سے وابستہ تلخ و شیریں یادوں کو کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔ چار نومبر سنہ 1979 کا دن اسلامی انقلاب کی کامیابی و کامرانی کے بعد تہران یونیورسٹی اور کالجوں کے انقلابی جوانوں کے ہاتھوں مجرمانہ سازشوں میں مشغول سفارتی جاسوسی کا امریکی اڈہ تسخیر کئے جانے کے اس عظیم کارنامے کی یاد دلاتاہے جس نے عالمی خونخوار امریکہ کے سر پر غرور کو چکنا چور کردیا ۔یہ کارنامہ اسلامی انقلاب کی تاریخ میں سامراجیت کے خلاف ایک ایسا موڑ لے آیا کہ رہبر کبیر انقلاب اسلامی نے اس کو " دوسرے انقلاب " سے تعبیر کیا ہے ۔دراصل فروری سنہ 1979 میں ، پہلوی نظام کو جڑ سے اکھاڑ کر ایران میں اسلامی بنیادوں پر امریکہ مخالف وہ اسلامی نظام قائم ہوا تھا جس کا وجود مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے سامراجی مفادات کے لئے نہایت ہی خطرناک ہوگیا تھا لہذا امریکہ نے تہران میں اپنے سفارت خانے کو اسلامی انقلاب کے خلاف دشمنانہ سازشوں کے ایک گھنونے اڈے میں تبدیل کردیا تھا چنانچہ امام خمینی (رح) کے انقلابی خطوط پر چلنے والے یونیورسٹی کے جوانوں نے بڑی بہادری کے ساتھ جاسوسی کے اس خطرناک اڈے کو تسخیر کرلیا اور دشمنان قوم و ملت کی سازشوں کو ہمیشہ کے لئے نقش برآب کردیا۔رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای دام ظلہ نے مسلمان طلبہ کے ہاتھوں جاسوسی کے اس اڈہ کے تسخیر کئے جانے کو عالمی استکبار کی ذلت و رسوائی کی علامت قراردیتے ہوئے بجا طور پر کہا تھا :" مسئلہ ، سفارت یا سفارتی عملے کا نہیں تھا بلکہ مسئلہ یہ تھا کہ موجودہ دنیا میں زر ، زور اور فریب پر مبنی ایک بڑا امپریلسٹی طاقت ،جو اپنے مقابلے میں تمام قوموں اور ملتوں کی تحقیر پر کمربستہ ہو، قومی قیادتوں کو ذلیل کررہا ہو، قوموں کی پشتپناہی میں بر سر اقتدار آنے والی حکومتوں کوکسی قدر و قیمت میں شمار نہ کرتا ہو، جب چاہے حکومتوں کا خاتمہ کردے ، جس ملک پر چاہے حملہ کردے ،ایک ایسے امپیریل پاور کو ایک جگہ اس طرح ذلت و خواری کا سامنا کرنا پڑے اور دنیا دیکھے کہ قوت و طاقت ہی سب کچھ نہیں ہے اور عالم فطرت پر صرف مستکبرین کا فیصلہ حکمراں نہیں ہے ۔یہ وہ چیز ہے جس کے گرد و غبار عالمی استکبار کے سرغنہ چہروں سے ابھی تک صاف نہیں ہوئے ہیں اور نہ ہی آئندہ صاف ہوسکیں گے۔لیکن اب صورتحال یکسر بدل رہی ہے چار نومبر 1979 کو تہران میں امریکہ کے سازشی مرکز یعنی نام نہاد سفارتخانے پر قبضے کو شک تردید کی نگاہ سے دیکھنے والے اب نیویارک میں ایسی ہی ایک تحریک کا مشاہدہ کررہے ہیں اور ان کی دیکھا دیکھی پورے یورپ میں سازشی سامراجی مراکز پر قبضہ کرو نامی تحریکیں شروع ہوچکی ہیں۔ تہران میں امام خمینی کے پیرو مسلم طلبا کے ہاتھوں امریکہ کے سازشی اڈے کی فتح کو اس وقت بھی انقلاب اور انسانی سوچ رکھنے والوں نے بالکل درست اور بجا اقدام قراردیا تھا اور آج وال اسٹریٹ پر قبضہ کرنے کی تحریک کو امریکی عوام کے اقدام کو تحسین آمیز نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں۔بلا شبہ تین دہاہیوں قبل امریکہ کے سازشی مرکز پر ایرانی نوجوانوں کے قبضے اور نیویارک میں وال اسٹریٹ پر امریکی نوجوانوں کی تحریک میں میں کافی مشا بہت پائی جاتی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ امام خمینی کے پیرو مسلم طلبا کے ہاتھوں امریکہ کے نام نہاد سفارتخانے پر قبضے کی مانند تمام سازشی مراکز کہ جنہوں نے دنیا والوں کا جینا دوبھر کرکھاہے، ایک ایک کرکے عوام کے ہاتھوں سقوط کرجائیں گے، انشا اللہ ۔...........

/169